Tag: #400Men

  • چیختے چلاتے مرد اور ان کی انا کا برج خلیفہ

    چیختے چلاتے مرد اور ان کی انا کا برج خلیفہ

    میرے خیال سے دو مہینے  ہو گئے ہیں ۔ میں روز جاگتی ہوں ،روز ایک عورت سے متعلق دل دہلا دینے والی خبر ہوتی ہے  ۔ میں اس خبر کے خوف میں رہتی ہوں ، واویلا مچتا ہے  ، بحث ہوتی ہے ، گرفتاری ہوتی ہے ، اور  اس کے ساتھ ہی سارا الزام عورت پر ہی  لگ جاتا ہے  ۔ اس پوری روٹین میں ایک دن بھی فرق نہیں  آیا ۔ میں اس پورے سلسلے میں ایک ہی چیز پر حیران ہوتی ہوں اور وہ ہے مرد کا چیخنا چلانا ۔  مطلب تشدد بھی عورت پر ہوا ، قتل بھی عورت ہوئی ، عزت بھی  عورت  کی لٹی ، لیکن واویلا صرف مرد مچا رہے ہوتے ہیں ۔ عورتوں کو ایک عورت کے بارے میں ہی بات کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ اجازت بھی شاید مرد ہی دینا چاہتے ہیں ۔ مرد کی چونکہ عزت کے خلاف ہے اپنی غلطی ماننا تو یہ قدرتی بات ہے کہ وہ روئے گا ، چلائے  گا ، اور عجیب وغریب دلیلیں بھی دے گا ۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے ، مرد کی برداشت کے 5 مرحلے ہیں۔ آپ چاہیں تو اس میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں ۔

    پہلا مرحلہ ہوتا ہے جہاں مرد کہتے ہیں “دنیا میں پاکستان سے زیادہ عورت کی عزت کہیں نہیں ہوتی “۔ یہ ہمارے وزیرِ اعظم بھی کہتے ہیں ۔ جب ہم عورتیں یہ کہتی ہیں کہ کہاں کی عزت جب روز کسی عورت کی عزت لٹتی ہے یا عورت کا قتل ہوتا ہے تو  اس پر مرد کہتے ہیں ” ہم  اتنی عزت کرتے ہیں آپ کی  ۔ تندور پر جو قطار بنی ہوتی ہے ، ادھر ہم عورتوں کو پہلے روٹی دیتے ہیں “۔ یا پھر” جب عورت  اے ٹی ایم پر جاتی ہے  تو ہم اسے پہلے پیسے لینے دیتے ہیں ” اتنی تو  عزت دیتے ہیں ، تو  کیا ہوا اگر تھوڑا مار لیا یا قتل کر دیا؟ اور کیا چاہتی ہیں آپ، اور کیا حقوق  چاہئیں ہیں آپ کو ؟

    پھر مرد آتا ہے دوسرے مرحلے کی جانب ۔ اس میں وہ کہتا ہے پوری دنیا کے مقابلے میں پاکستانی عورت پاکستان میں محفوظ ہے ۔ جب عورتیں کہتی ہیں کہ کہاں محفوظ ہیں ؟ کبھی عورت کو کوئی ہاتھ مار جاتا ہے ، کبھی عورت پر 400 مرد حملہ کر دیتے ہیں ، کبھی عورت کے پیچھے گاڑی  لگ جاتی ہے ، کہاں محفوظ ہے؟ اس پر مرد حضرات کا جواب ہوتا ہے ” تو نہ جائیں باہر ” یا پھر وہ کہتے ہیں “ہاں  تو کچھ کیا  ہوگا ، کپڑے ٹھیک نہیں ہوں گے ، یہ نہیں ہوگا ، وہ نہیں ہوگا ” ۔ مرد اِس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے کہ عورت میں کچھ نہیں ہوتا ،ساری غلاظت ان کے ذہن میں ہوتی ہے ۔ سارا کا سارا  گند ان کے دماغ میں ہروقت رچا بسا رہتا ہے  جس کی وجہ سے نہ وہ سیدھا  سوچ پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ سیدھا کر پاتے ہیں ۔

    پھر آتا ہے تیسرا مر حلہ  جس میں وہ کہتے ہیں کہ عورت نے خود کروایا ہے تاکہ وہ ملک سے باہر جا سکے ۔ یا پھر انڈیا نے فلاں فلاں کو پیسے دے کر یہ کروایا ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے ۔اور اس مرحلے پر مرد کی آواز کافی اونچی ہو جاتی ہے ، صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہوتا ہے ، وہ سارا غصہ جو ان کو عورت کے “ہونے ” پر ہے، وہ اندر کھولنے لگتا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ “مرد ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہوتا ہے” جدھر اسے ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے یا پھر گردے بھی فیل ہو  سکتے ہیں کیونکہ خدا نخواستہ وہ کیسے مان لے کہ غلطی مردوں کی ہے ؟

    چوتھا مرحلہ وہ ہوتا ہے جس میں وہ آپ کو یاد کرواتے ہیں کہ آپ کے ابو آپ کا بھائی یا آپ کا خاوند بھی مرد ہے ۔ صبر کا زہر پی کر  وہ آپ کو  کہتے ہیں کہ “اگر مرد اتنا برا لگتا ہے تو ابو کو بھی مار دو ” خدا کی قسم ، اس نکتے پر میری  اپنی ہنسی نکل جاتی ہے کہ آخر یہ مرد کیوں اتنا مجبور ہے  اپنی انا کےہاتھوں، آخر مسئلہ کیا ہے؟

    پھر آتا ہے پانچواں اور آخری مرحلہ جس میں مرد کہتا ہے  ” میری ہو گئی ہے بس کاٹ دے میری کوئی نس “۔ اس مرحلے میں اسے پہلے دو مرحلے جس میں وہ عورت کے محفوظ ہونے اور عورت کو عزت دینے کے نعرے کو بھول جاتا ہے ۔ اس کے اندر کا وہی درندہ جاگ جاتا ہے جو نور کے قاتل ظاہر میں ہے ، ان 400 مردوں میں ہے جو عورت پر جھپٹ پڑتے ہیں ، اوران  مولویوں میں ہے جو مدرسوں میں بچوں کو بھی  نہیں چھوڑتے ۔ مرد آپ کو ایسی گالیاں دے گا کہ آپ کو یا تو سمجھ نہیں آئے گی کہ یہ کہا کیا  ہے  یا پھر آپ صدمے میں چلی جائیں گی یہ زبان ہے عورت کو “عزت ” دینے والے کی ۔ ان 5 مرحلوں میں آپ عورت ہوتے ہوئے محسوس  کریں گی کہ  مرد خاموش نہیں ہوگا ، ایک سیکینڈ کے لیے بھی منہ بند نہیں کرے گا ۔ وہ آپ کو بات کرنے ہی نہیں دے گا ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے خدا نخواستہ سن لیا ، تو وہ سوچنے لگ جائے گا ۔ اگر اس نے سوچ لیا ، تو شاید اس کو عورت کی بات ٹھیک لگنے لگے گی ۔   اس ٹھیک لگنے پراسے شاید  شرم بھی آ جائے ، اور شاید اسے معافی بھی مانگنی پڑے ۔ جیسے ہی معافی کا لفظ ذہن میں آئے گا مرد پھر سے  وہی درندہ بن جائے گا !

    اس لیے میری بہنوں ! آپ کی جنگ جائز ہے ۔ آ پ کا بار بار آواز اٹھانا جائز ہے ۔  لیکن  یہ مت بھولیں کہ اگلے کے لیے غلطی ماننا ناجائز ہے !

  • Two more women harassed in separate incidents on Aug 14, spark outrage on social media

    Two more women harassed in separate incidents on Aug 14, spark outrage on social media

    Another video of a woman being harassed in public on August 14 surfaced on social media.

    In the video, it can be seen that the woman is travelling on public transport [rickshaw] when a man out of nowhere jumps on the rickshaw and forcibly kisses her.

    The woman seems shocked at what happened to her and we hear a scream in the background.

    The women are visibly disturbed at the sight of a couple of motorcyclists hounding the rickshaw, catcalling and leering at them.

    The rickshaw appears to be surrounded by men in cars and motorcycles carrying the national flag, which indicates that the incident took place during Independence Day celebrations.

    The video triggered anger and uproar on social media, with many people calling for the government to take strict action against sexual harassers.

    In another video shown on Geo news, it can be seen that men present at Greater Iqbal Park have surrounded a woman and are harassing her. The woman took a stick and aimed it at the men surrounding her. Then men then dispersed to protect themselves.

    Previously, a viral video showed a woman being sexually assaulted by a large group of men at Minar-e-Pakistan in Lahore on August 14. The incident was confirmed after a First Information Report (FIR) was registered.

    Federal Minister for Human Rights Dr Shireen Mazari tweeted on Friday that 24 men had been detained through geo-fencing and matching records from National Database and Registration Authority (Nadra) for harassing and assaulting a female TikToker and her team members at Lahore’s Greater Iqbal Park on Independence Day.

    The minister wrote, “More arrests are expected today” in connection with the “condemnable” incident.

  • Enough!

    Pakistani women are angry and rightly so. We feel violated, we feel triggered, we are seething, we are shouting but we feel as if no one listens. Every day, there is a hashtag asking for justice for women who have been victims of abuse, domestic violence, sexual violence. We are not mere hashtags; violence against women in Pakistan is an epidemic now. 

    On August 14, a female TikToker was sexually assaulted and harassed by hundreds of men at Minar-e-Pakistan in Lahore. An FIR has been registered. Prime Minister Imran Khan and Punjab Chief Minister Usman Buzdar have vowed to catch the culprits. But is this enough? No, it is not! A woman was groped, assaulted, harassed for more than two hours by 300-400 men and nobody could stop it. Let this sink in. Hundreds of men and more than two hours! Imagine her trauma, imagine her pain, imagine her helplessness, imagine how she has been scarred for life. We cannot even imagine what she must be going through and can only show solidarity with her by our words. The state has to act against the culprits who committed this heinous crime. 

    We are angry because there is a societal and systematic rot that we must fight every second, every minute, every hour, every day! Women in Pakistan are not safe in their graves, they are not safe in public spaces, they are not safe in their homes, they are not safe in their cars, they are not safe. Period.
    This is a country where the prime minister says that if a woman is wearing very few clothes, it will have an impact on men unless they are robots. When he is called out for being a rape apologist, women parliamentarians come out to defend his statement. When he later changes his stance and says that no matter what a woman wears or “how provocative she is”, the person who commits rape is responsible, we are told that his statement is a “slap in the face of the detractors and critics”. Should we celebrate that the prime minister did not indulge in victim-blaming again and for once laid the responsibility on the perpetrator instead of women? We live in a society where women are blamed for stepping out of their house, for their dress, for just being a woman! When women question this mindset, all we hear are justifications for the crime! 

    Let it be said once and for all: ENOUGH! We have had enough of this. We ask our state and our leaders and our society to end this epidemic.