|
|

|
|

British Prime Minister Boris Johnson was caught in a tricky situation at a memorial service for police officers when his umbrella just refused to open, causing great amusement to Prince Charles and other dignitaries who could not stop their laughter seeing him in a fix.
The clip that went viral on social media after being shared by Sky News, shows Johnson struggling to control his errant umbrella.
Johnson’s umbrella first refused to open and when it did, it turned upside down much to the amusement of Prince Charles and the other officials who were attending the event with the PM.

|
|

|
|

Cricket veteran Abdul Razzaq spilled the beans on his ex-flame Deedar whom he dated almost two decades ago. The sports star confirmed that he was seeing Deedar and wanted to take his relationship with the beautician and dancer to the next stage but her career became a major hindrance.
He recently stated in an interview that, “We became friends in 1999, and I didn’t promise her that I’d marry her, I had told her that we will decide with time. We were friends, and as for marriage, I had asked her for six months to make a final decision.”
Talking to host Shoaib Jatt on the show ‘Bouncer’, he stated that he wanted her to leave stage performances and the career of a dancer if she wants to marry him.
“She used to say that I can’t leave my career activities like stage dramas etc, so I told her that it would be hard for me to marry her owing to my family background.”
The former cricketer is married to Ayesha Razzaq while Deedar has been married to Hamza Bhatti since 2012.

|
|
Actor Shahid Hameed in an interview with Kamran Shahid reveled that former Chief Justice Saqib Nisar used to deliver love letters when they were students.
Shahid, while answering to a question about the time spent with Saqib Nisar while they were students said, “He used to pick [cricket] balls for us.”
He jokingly said that Saqib has sacrificed a lot for us, adding that we used to give him money for coke and sandwiches for delivering our love letters.
Shahid also said that Saqib was a proper gentleman.
Saqib Nisar served as the 25th Chief Justice of Pakistan from December 31, 2016 till January 17, 2019.

|
|

اخبار کسی بھی گھر میں ایک کٹرعقیدے کی طرح ہوتا ہے کسی دن اگر معمول سے ہٹ کر باقاعدگی سے آنے والے اخبار کی جگہ ہاکر کوئی دوسرا اخبار پھینک جائے تو تمام دن طبیعت مکدر رہتی ہے۔ ہمارے گھر میں بھی اردو اخبار کے ساتھ کچھ ایسا ہی معاملہ تھا اور اس زمانے میں دو ہی اخبار بڑے سمجھے جاتے تھے۔ ہمسایہ ملک افغانستان اور وہاں بے امنی کی اماوس کی رات سے پہلا تعارف اخبارات سے ہی ہوا۔ ایک مرتبہ ہاکر غلطی سے دوسرا اخبار پھینک گیا جس کی پیشانی پر ‘افغان باقی کہسار باقی الحکم للہ الملک للہ’ تحریر تھا اور ساتھ میں سعودی اسامہ بن لادن کی انگلی اٹھائے تصویر تھی بعد میں پتا چلا کہ نہ اسامہ افغانی تھا اور جو انگلی اٹھائی ہوئی تھی وہ دراصل دنیا بالخصوص سادہ لوح مسلمانوں کو نچانے کے لئے تھی۔ اگرچہ وزیراعظم صاحب تو اس دہشتگرد کے لئے اب بھی ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں اورکچھ وزرا بھی اس حوالے سے اپنے نیک خیالات کا اظہار کر چکے ہیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید ریاست آگے جانے کے بجائے الٹے قدم چلنا شروع ہو گئی ہے۔ غضب ہے کہ 2021 میں بھی ہم ایسی الجھن کا شکار ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی افغانستان کی اسی پر واپس چلتے ہیں۔
یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ کس طرح ہاتھوں سے لگائے کانٹے ہمیں پلکوں سے چننے پڑے تھے اور کیسے ہم دو تین دہائیوں تک افغانستان کے اندر اپنے ایڈوینچر کا مزہ چکھتے رہے۔ اب پھر ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان کے اندر حالات نئی کروٹ لے رہے ہیں پاکستان میں بھی اس حوالے سے بے چینی ہے اور عوام کے اندر وہی پرانی کنفیوژن۔ طالبان اچھے ہیں یا نہیں، پاکستان کا مفاد کس میں ہے وغیرہ وغیرہ۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پورا ملک ہی افغان امور کا ماہر بن چکا ہے چینلز پر بھی ادھ پکے ادھ کچے تجزیوں کے ساتھ ہر کسی نے اپنی اپنی دکان سجائی ہوئی ہے جنہوں نے کبھی کوئٹہ تک کا سفر نہیں کیا وہ اسپن بولدک پر ہونے طالبان قبضے پر خیال کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ پاکستان نے اپنی ریستی پالیسی کا بھی کھلم کھلا اظہار کر دیا ہوا ہے وہ یہ کہ پاکستان افغانستان کے اندر کسی بھی گروپ کا حمایتی یا مددگار نہیں ہے لیکن شاید دنیا اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ یہاں بھی ہماری پالیسی کچھ کنفیوژن کا شکار نظر آ رہی ہے ہم افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنے کردار کی اہمیت بھی جتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ افغان طالبان پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں اور اب جب طالبان کو افغانستان میں اپنی فتح واضح نظر آ رہی ہے تو وہ کیوں مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔ پچھلے دنوں افغانستان پر اسلام آباد میں ایک کانفرنس بھی ہونے والی تھی جو چند وجوہات کی بنا پر عید کے بعد منعقد کی جائے گی اس میں میں افغانستان کے گروپس اور حکومت کس تو بلایا گیا مگر طاللبان کے نمایندے کو نہیں اس سے یہ سوال تو بنتا ہی ہے کظکیا طالبان کا موقف پاکستان نے میز پر رکھنا تھا؟
افغانستان پر ہماری پالیسی ایسا لگ رہا ہے کہ بہت سے مفروضوں پر قائم ہے جو کہ بذات خود ایک خطرناک بات ہے کیوں کہ یہ طالبان 90 کی دہائی والے طالبان نہیں ہیں اور پاکستان میں بھی پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کی ریاست اپنے تشخص کو واضح کرے اپنے اہداف کا تعین کرے اور ان اہداف سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل کی پیش بندی کرے کیونکہ طالبان کی جانب سے یہ کہہ تو دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن کیا افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے پر یہاں پاکستان میں مذہبی شدت پسندوں پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ کیا ہمارے پشتون علاقوں میں جنم لیے جانے والے نئے زمینی حقائق کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے؟ سوالات کی ایک لمبی فہرست ہے اور ان میں سے کئی کو تو پوچھنے سے پہلے بھی ہزار دفعہ سوچنا پڑے۔ لیکن آخر میں ایک بات تو کہی جا ہی سکتی ہے کہ ہماری حکومت جو کبھی اس ملک میں قائم سیاسی نظام پر ہی سوال اٹھاتی رہتی ہے یا اسے کبھی ترکی تو کبھی چین کا ماڈل اچھا لگنے لگتا ہے مزید برآں ریاست مدینہ کو سیاسی دکان چمکانے کے لئے استعمال کرنے والوں کے ذہنی ہیجان اور فکری خلجان کے دور میں افغانستان کی بدلتی صورتحال پر واقعی گھبرانے کی ضرورت ہے۔

|
|