Tag: Pakistan media

  • EU report highlights rights issues and corruption in Pakistan

    On Tuesday, the European Commission and the European External Action Service (EEAS) jointly revealed a monitoring report on Pakistan’s Generalised Scheme of Preference, or GSP Plus.

    The report expressed concerns about forced disappearances, torture, and limitations on media freedom in Pakistan, which are seen as violations of international treaties.

    It urged Pakistan to enforce laws protecting economic, social, and political rights and raised reservations about the misuse of anti-corruption rhetoric for political purposes.

    Despite civilian rule since 2008, the report highlighted the military’s disproportionate role in politics and the economy.

    Covering 2020–2022, it focused on the May 9 riots and subsequent trials in military courts, recognising legislative progress but emphasising the need for improved practical implementation.

    Furthermore, the report read that although initial measures have been undertaken to limit the application of the death penalty, additional steps are required to bring them in line with international standards.

    This entails introducing a comprehensive revision of the mercy petition procedure.

    “It has undeniably increased awareness of human rights at the grassroots level, of labour rights within businesses and export supply chains and of the significance of environmental considerations and good governance.

    However, the full potential of the GSP+ benefit can only be realised by diversifying Pakistan’s exports to include more value-added products”, remarked EU Ambassador to Pakistan H.E. Dr Riina Kionka about the report.

    Pakistan attained GSP Plus status in January 2014, following the ratification of 27 international conventions and a commitment to their implementation.

    The GSP Plus incentive provides Pakistan with zero-rated or preferential tariffs on nearly 66 per cent of tariff lines, thereby bolstering the country’s capacity to export to the EU market.

  • Pak in top ten list of ‘abusers of internet freedom’

    Washington-based Freedom House, in its latest report titled ‘Freedom on the Net 2021: The Global Drive to Control Big Tech’, ranked Pakistan seventh among “abusers of internet freedom”.

    Imran Ayub for Dawn writes that according to the research, global internet freedom had declined for the 11th consecutive year.

    “Pakistan’s proposed Removal and Blocking of Unlawful Online Content (Procedure, Oversight and Safeguards) Rules which outlines requirements for social media companies to establish one or more data servers in the country would lead to a negative impact on companies and the users,” said the report.

    “Pakistan’s proposed rules have raised alarms about their impact on end-to-end encryption. The draft requires social media companies and service providers with more than 500,000 users to hand over personal data in a decrypted and readable format when requested by the Federal Investigation Agency,” it added.

    The findings suggested that Internet freedom faced a serious and major challenge not only in Pakistan but around the globe as the situation is quite worse in Myanmar, Uganda and Belarus.

    Freedom House also found Pakistan among 24 countries that have given guidelines on how platforms treat content.

    “More governments arrested users for nonviolent political, social or religious speech than ever before. Officials suspended internet access in at least 20 countries, and 21 states blocked access to social media platforms. Authorities in at least 45 countries are suspected of obtaining sophisticated spyware or data-extraction technology from private vendors,” it concluded.

  • گولی لگے تاکہ باہر جائیں

    گولی لگے تاکہ باہر جائیں

    باہر جانے کا کس  کو شوق نہیں ،  گھر  سے باہر نہیں ملک سے باہر جانے کا ۔ ہم میں سے بیشتر لوگ باہر سیر و تفریح کرنے جاتے ہیں تا کہ زندگی کے تھکا دینے والے سلسلے سے کچھ دیر تو چھٹکارا ملے ۔ کچھ لوگ باہر جا کے صرف لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ برج خلیفہ کی سوئی کو ہاتھ لگا کر آئے ہیں  اور مونا لیزا کی تصویر میں کوئی خاص بات نہیں  ، اس سے بہتر تصویر ہم خود بنا لیں ۔ اور کچھ لوگوں کی ویسے ہی بس ہو گئی ہے ملک میں تو وہ اپنی زندگی کا سب کچھ بیچ کر  ملک ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں ، یہ سوچتے ہوئے کہ اس  ملک میں ملی ہوئی عزت سے بہتر باہر کی بے عزتی ہے  ، افسوس تو نہیں ہوتا نہ کہ اپنے بے عزتی کر رہے ہیں !

    دوسرے ملکوں میں بات یہیں ختم ہوجاتی ہے کہ باہر گئے اور واپس آ گئے ۔ لیکن پاکستان میں باہر جانے کو ایک خاص ہی مقام حاصل ہے ۔ ملک سے باہر جانے کو سیاسی نظر سے دیکھیں تو شاعر حضرات جو اپنی انقلابی شاعری کے لیے مشہور تھے ، انہیں بھی ملک چھوڑنا پڑا ۔ ایک ان سے ملک چھڑوایا اور پھر ان کو غدار کا سرٹیفکیٹ بھی دے دیا ۔اور جب وہ واپس نہیں آئے تو سب نے کہا ” تھا ہی غدار ، باہر صحیح عیاشی کرتا رہا ہے، اس کے تو مزے ہوگئے” جن سیاست دانوں سے سب کی نہ بنی ان کو بھی ڈیل میں باہر کا ملک دے دیا  کہ چلیں آپ اب تھوڑا آرام  کر لیں، ملک کا بیڑا غرق اب ہم کریں گے۔ ہمیں بھی تو موقع دیں نا۔  سیاسی طور پر اس دن حد ہی ہو گئی جب پاکستان کے ایک وزیرِ اعظم کو کہا گیا کہ لوگ تنگ آ کر ملک چھوڑ رہے ہیں ، تو انہوں نے جواب میں کہا ” ہاں تو چلے جائیں ، ان کو روک بھی کون رہا ہے ” خود بتائیں اس سے زیادہ خیال رکھنے واالی حکومت آپ کو کہیں اور مل سکتی ہے ؟  نہ آپ کو کوئی روک رہا ہے، نہ کوئی ٹوک رہا ہے، جہاں مرضی جائیں۔

    لیکن یہ باہر جانا کچھ عجیب شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اب لوگ کہتے ہیں

     “اس نے اپنے آپ کو خود مار پڑوائی  تاکہ وہ ملک سے باہر جا سکے ” یہ الزام جن لوگوں پر لگ رہا ہے ان میں صحافی ، انسانی حقوق کے علمبردار،اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا ہر شخص شامل ہے ۔ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ظالم ان کی آواز بند کرتے ہیں۔ کبھی ان کو ذہنی اذیت  دے کر تو کبھی جسمانی ۔ کچھ سہہ جاتے ہیں اور کچھ کو واقعی ملک چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔  جو ملک چھوڑ جاتے ہیں ، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے “خود مار پڑوائی تھی اپنے آپ کو تاکہ گوروں سے ہمدردی حاصل کر کے ملک چھوڑ سکیں” ۔

     15 سال کی ملالہ کو  جب گولی لگی  اور انہیں باہر لے جایا گیا  تو پاکستان میں سوال  ہی کچھ اور تھے ۔ “ملالہ کو جہاں  گولی لگی وہاں سوراخ کیو ں نہیں ہے؟  سر میں گولی لگنے سے کون بچ سکتا ہے ؟ کہیں خود گولی  تو نہیں لگوائی؟ اور آخر میں پھر وہی بات کہی گئی “باہر جانے کا بہانہ تھا ، گولی لگی ہی نہیں”

    اب کوئی سچ بولنے والا صحافی ہو یا ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا انسان ، اس کو کوئی گھر میں گھس کر مارے ، یا گھر کے باہر سے اٹھا کر غائب کر دے ، اس کا اخبار بند کروا دے ، اس کے گھر والوں کو کوئی دھمکیاں دے جائے ، ہر چیز پر ہماری محب ِوطن قوم کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے “خود کروایا ہے تاکہ ملک سے باہر جا سکے ” ۔ بات صرف یہاں نہیں رکتی، کوئی صحافی زخمی ہو تو محبِ وطن لوگ پوچھتے ہیں  “یہ زیادہ زخمی کیوں نہیں ہے؟ ایسے کون زخمی ہوتا ہے ؟ خود کروایا ہوگا”  کسی کا خون زیادہ نہ نظر آئے تو تب بھی یہی کہا جاتا ہے “یہ کیسا تشدد ہے جس میں خون کا دریا نہیں بہا؟ لگتا  ہے خود کروایا ہے تاکہ ملک سے باہر جا سکے ” کسی صحافی کو کچھ گھنٹوں کے لیے غائب کرنے کے بعد جب واپس کیا جاتا ہے تو تب بھی یہی کہا جاتا ہے “خود اٹھوایا ہوگا ورنہ زندہ کیسے واپس چھوڑ گئے ؟ ضرور ملک سے باہر جانا ہے” ارے ہمارے محبِ وطن لوگ تو کسی عورت کی عصمت دری ہو اور اس کو باہر کے ملک میں  پناہ مل جائے تو اس کو بھی یہی کہتے ہیں” خود کروایا ہوگا اپنا ریپ تا کہ ملک چھوڑ سکے”

    پہلے ہم کہتے تھے جو کروا رہا ہے بھارت کروا رہا ہے ، اب ہم کہتے ہیں جو کروا رہے ہیں خود کروا رہے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ آخر کتنے صحافی اس ملک سے باہر گئے ؟ میرا ان محبِ وطن لوگوں سے سوال ہے کہ جب کوئی صحافی یا ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا انسان مرے تو کیا تب ہی  آپ کو ان حادثوں پر یقین ہوگا ؟ کیا اس کی لاش کے ٹکڑے ملیں گے تو تب ہی آپ ظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے ؟  اے محبِ وطن انسان ! ملک سے محبت کے لیے کیا موت ضروری ہے ؟